Home Blog

آج کے اقوالِ زرین

0

 

 

 

 

 

 

 

 

 

منفی سوچ ” غلط نمبر کی عینک“ کی طرح ہوتی ہے۔
ہر منظر دھندلا،  ہر راستہ ٹیڑھا،  اور ہر چہرہ بگڑا ہوا ہی نظر آتا ہے۔

 

…کبھی کبھی زندگی بھی ایسی ہی لگتی ہے
ناممکن، الجھی ہوئی اور سمجھ سے باہر۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر زاویہ بدلنے سے
حقیقت بھی بدل جاتی ہے۔

،اپنی سو چ کا رخ بدلیں
✨ راستے خود واضح ہو جائیں گے۔ 

 

 

 

 

 

ملتا تو بہت کچھ ہے اس زندگی میں، بس ہم گنتی اسی کی کرتے ہیں جو حاصل نہ ہو سکا۔

 

!کوشش کریں کہ کوئی آپ کی شکایت رب سے نہ کرے 

وقت ہر تعلق کی اہمیت بتا دیتا ہے۔

مجبوریاں انسان کے شوق کھا جاتی ہیں۔

 

چپ رہنا غرور نہیں صبر ہے۔

 

زندگی کے سفر میں ہر کوئی شجر سایہ دار نہیں ہوتا، لہٰذا توقعات ایک حد تک رکھا کریں ورنہ امیدیں ٹوٹنے پر وجود ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے ۔

 

فقط نامکمل خوابوں کا جھانسہ ہے زندگی۔

 

رشتے وہی خوبصورت اور قیمتی ہوتے ہیں جن میں احساس موجود ہو۔

 

زندگی میں سب سے قیمتی تحفے اگر دیں کسی کو تو دعائیں ، وقت، اعتبار، ایمانداری، مخلصی دیں۔ 

 

لہجے دل نہیں انسان کھا جاتے ہیں۔

دل صاف، نیت سچی اور بھروسا اللہ پر ہو، تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔

 

مختصر رہو، مخلص رہو۔

لمبا دھاگہ اور لمبی زبان ہمیشہ الجھ جاتی ہے اس لیے دھاگہ لپیٹ کر اور زبان سمیٹ کر رکھیں۔

 

سوال کر لینا بدگمان ہونے سے بہتر ہے۔

 

مقدار کی نسبت معیار کا انتخاب کریں۔

 

تجربات حالات سے آتے ہیں، عمر سے نہیں۔

 

جس دن تمہیں یہ معلوم ہو جائے گا کہ جو کام تمہاری مرضی سے نہیں ہوتے وہ تمہارے لیے کتنے بہتر ہوتے ہیں، اس دن تمہاری بے سکونی ختم ہو جائے گی۔

 

زندگی میں کچھ راستے صبر کے ہوتے ہیں اور کچھ راستے سبق کے۔

 

ہم وہیں تک اچھے ہوتے ہیں جہاں تک دوسروں کے معیار کے مطابق ہوتے ہیں۔

 

وہ دعائیں رد نہیں کرتا بس بہترین وقتوں پہ قبول کرتا ہے۔

 

صحیح وقت پر غلط جگہ سے نکل جانا بھی ایک نعمت ہے۔

 

رویہ چھوٹی سی چیز ہے لیکن بڑا فرق پیدا کر دیتا ہے۔

 

آغاز پر یقین مت کیجئے، حقیقی الفاظ آخر میں ادا کیے جاتے ہیں۔

 

لہجے میں نرمی ہو تو الفاظ شفا دیتے ہیں۔

 

ہر کوئی آپکو نہیں سمجھے گا اور یہی زندگی ہے۔

 

اخلاق بھی رزق ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے۔

 

ہر کامیابی کے پیچھے ناکامی کی ایک کہانی ہوتی ہے۔

 

انسان کی سب سے بڑی دولت اس کا اخلاق ہوتا ہے، جو اس کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔

 

دل سے اگر صاف رہو گے، تو کم ہی لوگوں کے خاص رہو گے۔

 

آپ کے وہ الفاظ بھی تحفہ ہیں جو دوسروں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

یہ دنیا تب تک جنت ہے جب تک والدین زندہ ہیں۔

مکانوں کے بنانے میں عمر ختم کر رہا ہے، بسیں گے دوسرے اور حساب دے گا تو
(حضرت عبد القادر جیلانی)

دیواروں کے پاس کان ہوں یا نہ ہوں فرشتوں کے پاس قلم ضرور ہے۔

 

 گِرتے پتوں سے یہی جانا ہے، بوجھ بنو گے تو اپنے بھی گرادیں گے۔

 

رشتوں کے بازار میں آج کل وہ لوگ ہمیشہ اکیلے ہی پائے جاتے ہیں جو دل اور زبان کے سچے ہوتے ہیں۔

 

اچھی بات کوئی بھی کہے تو اُسے پلو سے باندھ لو کیونکہ کہ جب کسی موتی کی قیمت معلوم کی جاتی ہے تو کوئی نہیں دیکھتا کہ اُسے سمندر کی تہہ سے نکالنے والا کون تھا۔

 

:اپنے ذہنی سکون کے لیے تین چیزیں کم رکھیں
الفاظ، توقعات، اور لوگ

 

غلطیاں نہیں کرینگے تو پتہ کیسے چلے گا کہ کون کون ہمارے گرنے کا انتظار کر رہا ہے۔

ہماری نیت کی پیمائش اُس وقت ہوتی ہے جب ہم کسی ایسے شخص کے ساتھ بھلائی کریں جو ہم کو کچھ بھی نہیں دے سکتا۔

 

:سب سے بڑی حقیقت
صرف ایک ہی شخص آپ کی زندگی کو بدل سکتا ہے اور وہ آپ خودہیں۔

 

تم پانی جیسے بنو جواپنا راستہ خود بنا تا ہے، پتھر جیسے نہ بنو جو دوسروں کا بھی راستہ روک لیتا ہے ۔

 

آج کل خود کو غلط ہوتے ہوئے بھی صحیح ثابت کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا صحیح ہوتے ہوئے خود کو صحیح ثابت کرنا۔

 

سچائی اور اچھائی کی تلاش میں پوری دنیا گھوم لیں، اگر وہ آپ کے اندر نہیں تو کہیں بھی نہیں۔

 

قانون سب کے لئیے برابر ہے، یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔

قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں کیڑے مکوڑے تو پھنستے ہیں مگر بڑے جانور اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔

(افلاطون)

 

وہ نیکی بڑی معتبر ہےجس کا رب کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔

 

کوشش آخری سانس تک کرنی چاہیے؛ منزل ملے یا تجربہ، چیزیں دونوں نایاب ہیں۔

لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار، باری اپنی ہو تو انھیں ترازو نہیں ملتا۔

 

کبھی رب کو محسوس کرنا، دنیا تمہیں غیر لگے گی۔

 

اپنے دکھ میں کسی دوسرے کا دل نہیں دکھاتے۔

 

دھو کے ایسے ہی نہیں ملتے، بھلا کرنا پڑتا ہے لوگوں کا۔

 

خُدا کا بندہ وہی ہے جو بندوں کا خُدا نہ بنے۔

 

زندگی آسان ہوتی ہے، دراصل دِکھاوا مشکل بنا دیتا ہے۔

 

کردار سے بہتر انسان کا کوئی اثاثہ نہیں۔

 

وقت نے سب کچھ سکھایا پر وقت پر نہیں سکھایا۔

 

لوگ اس دنیا میں ہر چیز بہتر چنتے ہیں سوائے الفاظ کے۔

 

کامیابی منزل نہیں بلکہ سفر کا نام ہے۔

 

آپ کے الفاظ آپ کی شخصیت کا آئینہ ہیں۔

 

مفت میں صرف ماں اور باپ کا پیار ملتا ہے، اسکے بعد دنیا کے ہر رشتے کے لیے کچھ نہ کچھ چکانا پڑتا ہے۔

 

ہم ایسی قوم ہیں جن کے پاؤں میں جوتے کی کیل کی وجہ سے زخم ہیں ،،، ہم زخم کی پٹی کرتے ہیں مگر جوتے کی کیل نہیں نکالتے

 

بہلول سے کسی نے پوچھا کہ قبرستان میں کیوں بیٹھے ہو ؟ بہلول نے جواب میں کہا ؟ میں اُن کے ساتھ بیٹھا ہوں جن کی طرف سے مجھے : کوئی تکلیف نہیں پہنچتی، الزام نہیں لگاتے، حمد نہیں کرتے، جھوٹ نہیں بولتے، طعنہ نہیں دیتے، خیانت نہیں کرتے، اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ جب میں یہاں سے اُٹھ کے چلا جاتا ہوں تو پیٹھ پیچھے میری غیبت نہیں کرتے !!

 

 ایک پھول والے کی دکان پر کیا خوبصورت جملہ لکھا تھا: انسان کو ہر قدم پر جیت چاہیے، مگر لوگ میرے پاس آ کر ہار مانگتے ہیں۔

 

جھوٹ بہت تیز دوڑتا ہے لیکن منزل پر سچ ہی پہنچتا ہے۔

 

اپنے حصے کا کام کیے بغیر دعا پر بھروسہ کرنا حماقت ہے۔۔۔ اور اپنی محنت پر بھروسہ کر کے دعا سے گریز کرنا تکبر ہے۔

 

وقت تو وقت پر بدلتا ہے لیکن انسان کسی بھی وقت بدل سکتا ہے

 

بہترین لوگ وہ ہیں جن کی گفتگو آپ کے علم میں اضافہ کرے اور جن کا عمل آپ کو آخرت کی یاد دلائے۔

 

،زندگی نے بہت کچھ سکھایا ،کتابوں نے بھی رہنمائی کی ،لیکن انسانی رویوں نے جو سبق دیا نہ تو وہ زندگی کے کسی ورق پر اور نہ ہی کتاب کے کسی صفحے پر تحریر تھا۔

 

چھوٹے ذہنوں میں ہمیشہ “خواہشیں” اور بڑے ذہنوں میں ہمیشہ “مقاصد” ہوا کرتے ہیں ،،، !! خلیل جبران : 1883-1931

لاہور کی سڑکوں میں چھپی برطانوی تاریخ

0

 

انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں سے تختِ لاہور چھینا اور 1857ء میں تختِ دہلی پر بھی براجمان ہو گئے۔ لاہور میں فصیل کے باہر انہوں نے کچھ فاصلے پر ایک جدید لاہور کی بنیادیں ڈالیں۔ لگ بھگ سات کلو میٹر لمبی مال روڈ کی بنیاد 1851ء میں رکھی گئی اور سول انجینئر لیفٹیننٹ کرنل نیپئر اس کے نقشے اور تعمیر کا ذمہ دار تھا۔
یہیں گورنر ہاؤس بھی بنایا گیا۔ اس کے دائیں بائیں پھوٹنے والی سڑکیں بھی اسی نئے لاہور کا حصہ بنیں۔ لاہور ریلوے سٹیشن 1859ء میں قائم ہوا تو اسے سڑکوں کے ذریعے مال روڈ سے بھی ملایا گیا۔
 اس زمانے کی چیف کورٹ آف پنجاب (اب لاہور ہائیکورٹ) کے پہلو میں فین روڈ ہے۔ یہ سر ہنری فین کے نام سے منسوب ہے جو برٹش ہندوستان میں آئر لینڈ سے تعلق رکھنے والا کمانڈر انچیف تھا۔
ہائیکورٹ کے عقب میں ایک چھوٹی سڑک اب بھی ٹرنر روڈ کہلاتی ہے جو فین روڈ سے جڑ جاتی ہے۔ یہ الوائن ٹرنر کے نام سے منسوب ہے جو برٹش دور کا ایک نامور وکیل اور جج تھا۔

مال روڈ پر دوبارہ آئیں تو ریگل پر بائیں ہاتھ ہالز روڈ آتی ہے جو اَب الیکٹرانکس کی بڑی مارکیٹ ہے۔ یہاں چار بڑے ہال تھے جو نمائشوں اور اجتماعات کیلئے استعمال ہوتے تھے۔ اسی لیے اس کا نام ہالز روڈ ہے۔ یہ ہال وقت کے ساتھ ختم ہوکر کمرشل عمارتوں میں تبدیل ہو چکے۔

ہالز روڈ کی بغل میں بیڈن روڈ ہے جو مال روڈ کو میکلوڈ روڈ سے ملاتی ہے۔

   کے نام پر رکھا گیا ۔ Sir Cecil Beadon اس کا نام

جو بنگال کا لیفٹیننٹ گورنر تھا اور جس نے بطور کمانڈر 1857ء کی بغاوت کو فرو کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

مال روڈ پر چیئرنگ کراس‘ جو اَب فیصل چوک ہے‘ لندن میں واقع چیئرنگ کراس کی طرز پر بنایا گیا تھا اور نام بھی یہی رکھا گیا تھا۔ یہاں ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ بھی بنایا گیا تھا۔
چیئرنگ کراس کے سامنے قرطبہ چوک جانے والی سڑک بظاہر اسی مجسمے کی رعایت سے کوئنز روڈ کہلاتی ہے۔ یہاں برطانوی افسروں اور امرا کی رہائش گاہیں تھیں۔
ہائیکورٹ کے مقابل مال روڈ سے ایک اور سڑک پھوٹتی ہے جس کا نام میکلوڈ روڈ ہے۔ یہ سڑک سر ڈونالڈ فرائل میکلوڈ کے نام سے منسوب کی گئی تھی۔ ڈونلڈ میکلوڈ نے لاہور میں کافی کام کیے۔ اورینٹل کالج کی داغ بیل بھی ڈالی اور اس کا بڑا کتب خانہ بھی اس کی موت کے بعد پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری کا حصہ بنا۔ لاہور ریلوے سٹیشن بنانے میں بھی اس کا اہم حصہ تھا اور بظاہر اسی لیے یہ سڑک اس کے نام سے منسوب ہوئی۔

میکلوڈ روڈ پر جہاں لاہور ہوٹل ہے ایک سڑک نکلسن روڈ اس سے پھوٹتی ہے جو قلعہ گجر سنگھ کی طرف سے ایمپریس روڈ جاتی ہے۔ نکلسن روڈ جان نکلسن کے نام سے منسوب ہوئی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا فوجی افسر اور آئرش تھا۔ نکلسن 1857ء کی بغاوت میں دہلی میں مارا گیا تھا۔

ایمپریس روڈ ملکہ وکٹوریہ کے نام سے منسوب تھی اور یہ شملہ پہاڑی سے ریلوے سٹیشن کو جانے والی سڑک ہے۔ اسی پر ریلوے ہیڈ کوارٹرز بھی قائم کیے گئے تھے۔

ایجرٹن روڈ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ ایجرٹن کے نام پر تھی۔ اسی روڈ پر واقع فلیٹیز ہوٹل ایک اطالوی تاجر انڈریا فلیٹی نے 1880ء میں قائم کیا تھا۔ ان دنوں ایسے ہوٹل کی گوروں کو سخت ضرورت تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح سمیت نامور ترین افراد مثلاً مارلن برانڈو‘ ایوا گارڈنر بھی یہاں مقیم رہے ہیں۔

ڈیوس روڈ شملہ پہاڑی سے اَپر مال روڈ کو ملاتی ہے۔ یہ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ ہنری ڈیوس کے نام پر تھی جو 1871ء میں گورنر پنجاب تھا۔ ویلز سے تھا اور اس نے لاہور چڑیا گھر اور میو سکول آف آرٹس (موجودہ این سی اے) کا ادارہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

سر لارڈ میو 1869ء سے 1872ء تک وائسرائے یعنی گورنر جنرل ہندوستان رہا۔ میو ہسپتال بھی اسی کے نام سے منسوب ہے۔ لارڈ میو کا اصل نام رچرڈ ساؤتھ ویل بورک تھا اور وہ آئر لینڈ کی میو ریاست کا چھٹا ایرل تھا۔ انڈیمان کے دورے پر وہاں سزا کاٹنے والے ایک آفریدی پٹھان نے اسے قتل کرکے اس کے عہدے اور زندگی کا خاتمہ کیا تھا۔

برطانوی فوجی چیمبرلین کے نام پر موجود سڑک‘ جو مسجد مائی لاڈو کو سرکلر روڈ سے ملاتی ہے‘ ڈپٹی کمشنر برانڈرتھ کے نام پر برانڈرتھ روڈ‘ سر رابرٹ منٹگمری (لیفٹیننٹ گورنر پنجاب) کے نام پر منٹگمری روڈ‘ کمشنر لاہور کے نام پر کوپر روڈ جہاں خواتین کا کالج اب بھی موجود ہے‘ چیف کمشنر پنجاب سر جون لارنس کے نام پر بنی سڑک‘ جو ریگل چوک مال روڈ سے چائنہ چوک کو ملاتی ہے اور جس پر لارنس کے نام کا لارنس گارڈن موجود ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عظیم دعا

0

 

یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ عظیم دعا ہے جو انہوں نے فرعون کے دربار میں جانے سے پہلے مانگی تھی — سورۃ طہ، آیت 25-28

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۝ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۝ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي ۝ يَفْقَهُوا قَوْلِي

ترجمہ: اے رب! میرے لیے میرا سینہ کشادہ کر دے، اور میرے کام کو آسان کر دے، اور میری زبان کی گرہ کھول دے، تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔

:تصویر میں پھولوں سے بنے پھیپھڑے بہت گہرا پیغام دے رہے ہیں
جب سینہ شرح صدر سے کشادہ ہو جائے تو سانس بھی عبادت بن جاتی ہے۔ ہر دم اللہ کی حمد، ہر سانس ذکر، ہر دھڑکن دعا۔ دل کی تنگی ختم ہو تو لفظوں میں بھی خوشبو آ جاتی ہے۔

یہ دعا ہر اس شخص کے لیے ہے جسے حق بات کہنی ہو، جس کا دل گھبراتا ہو، جس کی زبان ساتھ نہ دیتی ہو۔ طالب علم، استاد، داعی، مظلوم — سب کے لیے۔

اور اوپر “نصرتِ مہدی عج” لکھا ہے۔ کیونکہ امام زمانہ عج کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لیے بھی شرح صدر، آسان کام اور کھلی زبان ہی چاہیے، تاکہ ہم دنیا کو ان کا پیغام سمجھا سکیں۔

اللھم اشرح صدورنا بحق محمد و آل محمد 🌸

اے اللہ! محمد اور آلِ محمد کے صدقے میں ہمارے سینے کشادہ فرما دے۔

پرسکون اور بامقصد زندگی کا راز

0

 :اسیّ سال عمر کے بعد کی رکاوٹوں پر قابو پانا

 جاپانی ماہرِ نفسیات ہیدیکی وادا کی ایک نئی کتاب حال ہی میں شائع ہوئی ہے، جس نے خاصی ہلچل مچا دی ہے۔

ہے۔ “Overcoming the Eighty Barriers” کتاب کا نام

کتاب جیسے ہی مارکیٹ میں آئی، اس کی فروخت 500,000 سے تجاوز کر گئی، اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر یہ جلد ایک ملین تک پہنچ گئی تو عالمی سطح پر بیسٹ سیلر بن جائے گی۔ 

ڈاکٹر وادا (عمر 61 سال) بزرگوں کی صحت کے شعبے کے ایک نمایاں ماہر ہیں۔ انہوں نے اپنے وسیع تجربے کو 44 اصولوں میں سمیٹا ہے، جو 60 سال کے بعد ایک پرسکون اور بامقصد زندگی کا راز بیان کرتے ہیں۔ یہ اصول بظاہر سادہ ہیں، مگر گہری دانائی رکھتے ہیں؛

 روزانہ چہل قدمی کریں۔
غصے میں گہری سانس لیں۔
حرکت میں رہیں، جسم کو اکڑنے نہ دیں۔
گرمیوں میں پانی پیتے رہیں، چاہے آپ اے سی میں ہی کیوں نہ ہوں۔
کھانا اچھی طرح چبا کر کھائیں… دماغ اور منہ ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔
یادداشت عمر سے نہیں بلکہ عدم سرگرمی سے کمزور ہوتی ہے۔
ادویات کا بے جا استعمال نہ کریں۔
بلاوجہ بلڈ پریشر یا شوگر کو حد سے زیادہ کم کرنے کی کوشش نہ کریں۔
اکیلا رہنا سکون بھی ہو سکتا ہے، یہ لازمی طور پر تنہائی نہیں۔
سستی کوئی شرم کی بات نہیں۔
بڑھاپے میں ڈرائیونگ لائسنس ہونا ضروری نہیں۔
وہ کریں جو آپ کو پسند ہے، اور جو پسند نہیں اسے چھوڑ دیں۔
خود کو گھر تک محدود نہ کریں۔
وہ کھائیں جو آپ کو خوشی دے… تھوڑا وزن بڑھنا نقصان دہ نہیں۔
ان لوگوں کے ساتھ وقت نہ گزاریں جن کے ساتھ آپ کو سکون نہ ملے۔
بہت زیادہ ٹی وی نہ دیکھیں۔
بیماری کے ساتھ جینا سیکھیں، ہر وقت اس سے لڑنے کی ضرورت نہیں۔
خوش امیدی بھی ایک دوا ہے۔
پھل، دھوپ اور تازہ ہوا—یہ سب خوشی کے ذرائع ہیں۔
اپنے دل کی بات کا اظہار کریں۔
ضرورت ہو تو اپنی رائے بدلنے میں کوئی حرج نہیں۔
سیکھنا چھوڑ دینا بڑھاپے کی ابتدا ہے۔
مطمئن رہنا ہی کافی ہے… اور مسکراہٹ خوش نصیبی لاتی ہے۔
اور بڑھاپا؟ یہ بوجھ نہیں… بلکہ ایک تحفہ ہے۔
ان دانا باتوں کے ذریعے، ڈاکٹر وادا ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ساٹھ کے بعد کی زندگی اختتام نہیں بلکہ ایک نئی شروعات ہے—سادگی، سکون اور خود کو بہتر طور پر سمجھنے کا مرحلہ۔

:مختصر یہ کہ
سادہ زندگی گزاریں، روز تھوڑا چلیں، اور زیادہ مسکرائیں۔ اپنے جسم اور عمر کو محبت سے قبول کریں، اور آپ دیکھیں گے کہ خوشی آپ کے بہت قریب تھی۔
یہ پیغام ان لوگوں کے ساتھ شیئر کریں جنہیں آپ عزیز رکھتے ہیں… کیونکہ دانائی کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔
نوجوانوں سے حسد نہ کریں: ہم سب کبھی جوان تھے۔
حسد کرنا ہے تو بزرگوں سے کریں، جنہوں نے دنیا دیکھی ہے۔
ان لوگوں سے حسد کریں جو صبح سویرے اٹھتے ہیں—ماہی گیر، کھمبیاں چننے والے—جو زمین پر گھومتے پھرتے ہیں۔
ہاں! ان بزرگوں سے حسد کریں جو اب بھی اپنا خیال رکھتے ہیں، جیسے پہلے رکھتے تھے—اپنے بالوں، جوتوں اور نفیس لباس کے ساتھ۔
ان کی زندگی کی خوشی سے حسد کریں جو اب بھی برقرار ہے، جو ان کے بچوں اور پوتوں میں جھلکتی ہے، اور ان کے سیکھنے کے شوق سے، چاہے زندگی کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
نوجوانوں سے حسد نہ کریں! آپ کے وقت میں جوان ہونا مشکل نہیں تھا۔
!حسد کریں ان بزرگوں سے جو ہمیشہ جوان رہتے ہیں
!!! یہ سب ہمارے بارے میں ہے
اسے ان دوستوں کو بھیجیں جنہیں آپ 2026 میں کھونا نہیں چاہتے۔

:اگر یہ آپ کے پاس واپس آتا ہے
،آپ کے بہت کم دوست ہیں
آپ کے اچھے دوست ہیں۔
!واقعی بہت سوچنے پر مجبور کرنے والا پیغام

22 Urdu Best Quotes

0

 

 

چلو آؤ قہقہ لگاتے ہیں ماضی کی تلخ یادوں پر، جھوٹے وعدوں پر، بے اعتبار باتوں پر، اپنی نادانی پر اور اپنی غلطیو ں پر۔
اندھوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ فساد کی جڑ بینائی ہے۔

 

پاکستانی پرائیویٹ اسپتالوں سے متعلق آپ اس کارٹون سے متفق ہیں؟

 

خاندانی انسان کسی کا پیا ہوا پانی بھی یاد رکھتا ہے اور بد نسلا انسان کسی کا دیا ہوا خون بھی بھول جاتا ہے 

یہ محبت کے حادثے اکثر دلوں کو توڑ دیتے ہیں تم منزل کی بات کرتے ہو لوگ راہوں میں چھوڑ دیتے ہیں

 

کچھ دل کی مجبوریاں تھیں کچھ قسمت کے مارے تھے ساتھ وہ بھی چھوڑ گئے جو جان سے پیارے تھے

 

گزار دیتا ہو ہر موسم مسکراتے ہوے ایسا بھی نہیں کے بارشوں میں تو یاد آیا نہیں

مجھے صبر کرنے کی دیر ہے تم اپنا مقام کھو دو گے

اب نہیں رہا انتظار کسی کا جو ہوں خود کہ لیے ہوں

علاقہ غیر کو سیراب کر رہی تھی وہ نہر رسیلے ہونٹ کہیں اور خشک ہو رہے تھے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حسد

0