




ملتا تو بہت کچھ ہے اس زندگی میں، بس ہم گنتی اسی کی کرتے ہیں جو حاصل نہ ہو سکا۔

!کوشش کریں کہ کوئی آپ کی شکایت رب سے نہ کرے


وقت ہر تعلق کی اہمیت بتا دیتا ہے۔


مجبوریاں انسان کے شوق کھا جاتی ہیں۔

چپ رہنا غرور نہیں صبر ہے۔

زندگی کے سفر میں ہر کوئی شجر سایہ دار نہیں ہوتا، لہٰذا توقعات ایک حد تک رکھا کریں ورنہ امیدیں ٹوٹنے پر وجود ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے ۔

فقط نامکمل خوابوں کا جھانسہ ہے زندگی۔

رشتے وہی خوبصورت اور قیمتی ہوتے ہیں جن میں احساس موجود ہو۔

زندگی میں سب سے قیمتی تحفے اگر دیں کسی کو تو دعائیں ، وقت، اعتبار، ایمانداری، مخلصی دیں۔

لہجے دل نہیں انسان کھا جاتے ہیں۔

دل صاف، نیت سچی اور بھروسا اللہ پر ہو، تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔

مختصر رہو، مخلص رہو۔

لمبا دھاگہ اور لمبی زبان ہمیشہ الجھ جاتی ہے اس لیے دھاگہ لپیٹ کر اور زبان سمیٹ کر رکھیں۔

سوال کر لینا بدگمان ہونے سے بہتر ہے۔

مقدار کی نسبت معیار کا انتخاب کریں۔

تجربات حالات سے آتے ہیں، عمر سے نہیں۔

جس دن تمہیں یہ معلوم ہو جائے گا کہ جو کام تمہاری مرضی سے نہیں ہوتے وہ تمہارے لیے کتنے بہتر ہوتے ہیں، اس دن تمہاری بے سکونی ختم ہو جائے گی۔

زندگی میں کچھ راستے صبر کے ہوتے ہیں اور کچھ راستے سبق کے۔

ہم وہیں تک اچھے ہوتے ہیں جہاں تک دوسروں کے معیار کے مطابق ہوتے ہیں۔
وہ دعائیں رد نہیں کرتا بس بہترین وقتوں پہ قبول کرتا ہے۔

صحیح وقت پر غلط جگہ سے نکل جانا بھی ایک نعمت ہے۔

رویہ چھوٹی سی چیز ہے لیکن بڑا فرق پیدا کر دیتا ہے۔

آغاز پر یقین مت کیجئے، حقیقی الفاظ آخر میں ادا کیے جاتے ہیں۔

لہجے میں نرمی ہو تو الفاظ شفا دیتے ہیں۔

ہر کوئی آپکو نہیں سمجھے گا اور یہی زندگی ہے۔

اخلاق بھی رزق ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے۔

ہر کامیابی کے پیچھے ناکامی کی ایک کہانی ہوتی ہے۔

انسان کی سب سے بڑی دولت اس کا اخلاق ہوتا ہے، جو اس کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔

دل سے اگر صاف رہو گے، تو کم ہی لوگوں کے خاص رہو گے۔

آپ کے وہ الفاظ بھی تحفہ ہیں جو دوسروں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

یہ دنیا تب تک جنت ہے جب تک والدین زندہ ہیں۔

مکانوں کے بنانے میں عمر ختم کر رہا ہے، بسیں گے دوسرے اور حساب دے گا تو
(حضرت عبد القادر جیلانی)

دیواروں کے پاس کان ہوں یا نہ ہوں فرشتوں کے پاس قلم ضرور ہے۔

گِرتے پتوں سے یہی جانا ہے، بوجھ بنو گے تو اپنے بھی گرادیں گے۔

رشتوں کے بازار میں آج کل وہ لوگ ہمیشہ اکیلے ہی پائے جاتے ہیں جو دل اور زبان کے سچے ہوتے ہیں۔

اچھی بات کوئی بھی کہے تو اُسے پلو سے باندھ لو کیونکہ کہ جب کسی موتی کی قیمت معلوم کی جاتی ہے تو کوئی نہیں دیکھتا کہ اُسے سمندر کی تہہ سے نکالنے والا کون تھا۔

:اپنے ذہنی سکون کے لیے تین چیزیں کم رکھیں
الفاظ، توقعات، اور لوگ

غلطیاں نہیں کرینگے تو پتہ کیسے چلے گا کہ کون کون ہمارے گرنے کا انتظار کر رہا ہے۔
ہماری نیت کی پیمائش اُس وقت ہوتی ہے جب ہم کسی ایسے شخص کے ساتھ بھلائی کریں جو ہم کو کچھ بھی نہیں دے سکتا۔

:سب سے بڑی حقیقت
صرف ایک ہی شخص آپ کی زندگی کو بدل سکتا ہے اور وہ آپ خودہیں۔

تم پانی جیسے بنو جواپنا راستہ خود بنا تا ہے، پتھر جیسے نہ بنو جو دوسروں کا بھی راستہ روک لیتا ہے ۔

آج کل خود کو غلط ہوتے ہوئے بھی صحیح ثابت کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا صحیح ہوتے ہوئے خود کو صحیح ثابت کرنا۔

سچائی اور اچھائی کی تلاش میں پوری دنیا گھوم لیں، اگر وہ آپ کے اندر نہیں تو کہیں بھی نہیں۔

قانون سب کے لئیے برابر ہے، یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔
قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں کیڑے مکوڑے تو پھنستے ہیں مگر بڑے جانور اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔
(افلاطون)
وہ نیکی بڑی معتبر ہےجس کا رب کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔

کوشش آخری سانس تک کرنی چاہیے؛ منزل ملے یا تجربہ، چیزیں دونوں نایاب ہیں۔

لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار، باری اپنی ہو تو انھیں ترازو نہیں ملتا۔

کبھی رب کو محسوس کرنا، دنیا تمہیں غیر لگے گی۔

اپنے دکھ میں کسی دوسرے کا دل نہیں دکھاتے۔

دھو کے ایسے ہی نہیں ملتے، بھلا کرنا پڑتا ہے لوگوں کا۔

خُدا کا بندہ وہی ہے جو بندوں کا خُدا نہ بنے۔




































