پورے دنیا میں پہلا آبدوز فاتح ایران نے خود بنایا ہے جو خودکش حملہ آور ڈرون لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فروری 2019 میں اسکا باقاعدہ افتتاح کرکے نیوی میں شامل کیا گیا۔
یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا آبدوز یے جسے ڈرون کیریئر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ابابیل ، آرش قسم کے ڈرون پانی کے اندر اور باہر لانچ کر سکتا ہے۔
یہ دوبارہ ری فیولنگ کے بنا مسلسل 35 دن تک سمندر میں رہ سکتا ہے۔
یہ ڈیزل الیکٹرک انجن پر چلتا ہے۔
بڑے آبدوزوں میں بڑے کروز میزائل ہوتے ہیں ایران نے میزائل کی ساخت چھوٹا کرکے اس میں نصب کیا ہے۔
یہ دشمن کے ریڈار پر نہیں آتا ، انتہائی خاموشی سے دشمن کی طرف حرکت کرتاہے اسی لیے اسے ‘خاموش قاتل’ کہا جاتا ہے۔
سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے میں بھی یہ آبدوز مہارت رکھتا ہے۔
میزائل اور ڈرون لانچ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ٹارپیڈوز بھی دشمن کے خلاف فائر کرتاہے جو دشمن کے جہازوں کا پیچھا کرکے انہیں تباہ کرتاہے۔
یہ دشمن کے ریڈار اور سونار دونوں کو چکما دینے کے اہلیت رکھتاہے۔
ریڈار پانی کے اوپر ہوا میں اور سونار پانی کے اندر دشمن کے آنے کی خبر دیتا ہے۔
یہ ایران کے انجینئرز نے دنیا میں ایک الگ عجوبہ بنایا ہے جو بروقت میزائل ڈرون اور ٹارپیڈوز فائر کرتاہے۔
اگر ارادے مضبوط ہوں تو دنیا بھر کی معاشی پابندیاں کسی قوم کی تخلیقی صلاحیتوں کو دفن نہیں کرسکتی۔
طارق آبدوز میں بھی ایرانی انجنیئرز نے ڈرون لانچ کرنے کے صلاحیت رکھی ہے لیکن وہ آبدوز انہوں نے خود نہیں بنایا۔
امریکہ کے پاس 70 ، دوسرے نمبر پر روس 63, تیسرے نمبر پر چین 61 اور چوتھے نمبر پر ایران کے پاس 25 آبدوزیں ہیں۔
پاکستان اور مصر کے پاس 8, 8 جبکہ ترکی کے پاس 13 آبدوزیں ہیں۔
ایران دنیا میں آبدوزوں میں 4 اور اسلامی ملکوں میں نمبر 1 پر ہے۔


















و






















