جو لوگ رب کو پانا چاہتے ہیں وہ اپنی خواہشات کو چھوڑ دیتے ہیں

اچھے وقتوں کی تمنا میں رہی عمر رواں

کاش کوئی ایسی ہوا چلے کون کس کا ہے پتہ چلے

 

 

گرم بستر میں لیٹ کر چھوٹی چھوٹی محرومیوں کو یاد کرنے اور اللہ تعالیٰ سے شکوے کرنے والوں کو کیا خبر باہر دسمبر کی اس ٹھنڈ میں ابلے ہوئے انڈے نہ بکنے پر آنکھ میں آنسو ، جیب میں غربت۔۔ اور پھٹے کپڑوں میں جسم کو محسوس ہوتی ٹھنڈ میں محرومیاں کیا ہوتی ہیں۔

 

لوگ کہتے ہیں کہ پتھر دل کبھی رویا نہیں کرتے

اُنہیں کیا خبر پانی کے چشمے پتھروں سے ہی نکلا کرتے ہیں

جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر،

ہنس کے کہنے لگی اور آپ کو آتا کیا ہے.

 

واللہ کیا منظر ہوگا تم، تمہارے آنسو، اور میرے میت

 

 

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here