یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ عظیم دعا ہے جو انہوں نے فرعون کے دربار میں جانے سے پہلے مانگی تھی — سورۃ طہ، آیت 25-28

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۝ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۝ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي ۝ يَفْقَهُوا قَوْلِي

ترجمہ: اے رب! میرے لیے میرا سینہ کشادہ کر دے، اور میرے کام کو آسان کر دے، اور میری زبان کی گرہ کھول دے، تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔

:تصویر میں پھولوں سے بنے پھیپھڑے بہت گہرا پیغام دے رہے ہیں
جب سینہ شرح صدر سے کشادہ ہو جائے تو سانس بھی عبادت بن جاتی ہے۔ ہر دم اللہ کی حمد، ہر سانس ذکر، ہر دھڑکن دعا۔ دل کی تنگی ختم ہو تو لفظوں میں بھی خوشبو آ جاتی ہے۔

یہ دعا ہر اس شخص کے لیے ہے جسے حق بات کہنی ہو، جس کا دل گھبراتا ہو، جس کی زبان ساتھ نہ دیتی ہو۔ طالب علم، استاد، داعی، مظلوم — سب کے لیے۔

اور اوپر “نصرتِ مہدی عج” لکھا ہے۔ کیونکہ امام زمانہ عج کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لیے بھی شرح صدر، آسان کام اور کھلی زبان ہی چاہیے، تاکہ ہم دنیا کو ان کا پیغام سمجھا سکیں۔

اللھم اشرح صدورنا بحق محمد و آل محمد 🌸

اے اللہ! محمد اور آلِ محمد کے صدقے میں ہمارے سینے کشادہ فرما دے۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here