بسنت بہار کی آمد کا تہوار ہے۔ یہ لفظ سنسکرت کے لفظ “وسنت” سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے بہار کا موسم۔ برصغیر میں صدیوں سے اس موقع پر خوشی منائی جاتی تھی—خاص طور پر پنجاب میں۔ پیلے کپڑے، پتنگ بازی، گیت، مٹھائیاں… سب بہار کی علامت سمجھے جاتے تھے۔بسنت پر پیلا رنگ بہار، سرسوں کے پھول اور نئی زندگی کی خوشی کی علامت ہے۔

پیلا رنگ: خوشی

محبت اور بہار کی علامت کے طور پر نہ کہ مذہبی عبادت کے طور پر منایا جا تا ہے۔

 :اکبر کے دور سے آغاز 

مغل شہنشاہ اکبر نے: مقامی تہواروں کو دربار میں جگہ دی۔ وسنت/بسنت بھی انہی میں شامل تھی

:مقصد

مختلف مذاہب اور ثقافتوں کو قریب لانا

رعایا سے رابطہ مضبوط کرنا

 :جہانگیر اور شاہجہان کے دور میں عروج

:جہانگیر کے زمانے میں

بسنت کو باقاعدہ درباری جشن بنایا گیا

پیلے لباس، پھول، موسیقی اور شاعری شامل ہوتی تھی

:شاہجہان کے دور میں

لاہور، دہلی اور آگرہ میں بڑے پیمانے پر تقریبات

باغات میں بہاری میلوں کا اہتمام

:پتنگ بازی کی شاہی سرپرستی 

:مغل امراء اور شہزادے

پتنگ بازی کو شاہی کھیل سمجھتے تھے

:تاریخی حوالوں میں آتا ہے کہ

دربار کی چھتوں پر اجتماعی پتنگ بازی ہوتی تھی

:اسی دور میں

پتنگ بازی پنجاب اور دہلی میں پھیلی۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here