وہ نیکی بڑی معتبر ہےجس کا رب کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔

 

کوشش آخری سانس تک کرنی چاہیے؛ منزل ملے یا تجربہ، چیزیں دونوں نایاب ہیں۔

لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار، باری اپنی ہو تو انھیں ترازو نہیں ملتا۔

 

کبھی رب کو محسوس کرنا، دنیا تمہیں غیر لگے گی۔

 

اپنے دکھ میں کسی دوسرے کا دل نہیں دکھاتے۔

 

دھو کے ایسے ہی نہیں ملتے، بھلا کرنا پڑتا ہے لوگوں کا۔

 

خُدا کا بندہ وہی ہے جو بندوں کا خُدا نہ بنے۔

 

زندگی آسان ہوتی ہے، دراصل دِکھاوا مشکل بنا دیتا ہے۔

 

کردار سے بہتر انسان کا کوئی اثاثہ نہیں۔

 

وقت نے سب کچھ سکھایا پر وقت پر نہیں سکھایا۔

 

لوگ اس دنیا میں ہر چیز بہتر چنتے ہیں سوائے الفاظ کے۔

 

کامیابی منزل نہیں بلکہ سفر کا نام ہے۔

 

آپ کے الفاظ آپ کی شخصیت کا آئینہ ہیں۔

 

مفت میں صرف ماں اور باپ کا پیار ملتا ہے، اسکے بعد دنیا کے ہر رشتے کے لیے کچھ نہ کچھ چکانا پڑتا ہے۔

 

ہم ایسی قوم ہیں جن کے پاؤں میں جوتے کی کیل کی وجہ سے زخم ہیں ،،، ہم زخم کی پٹی کرتے ہیں مگر جوتے کی کیل نہیں نکالتے

 

بہلول سے کسی نے پوچھا کہ قبرستان میں کیوں بیٹھے ہو ؟ بہلول نے جواب میں کہا ؟ میں اُن کے ساتھ بیٹھا ہوں جن کی طرف سے مجھے : کوئی تکلیف نہیں پہنچتی، الزام نہیں لگاتے، حمد نہیں کرتے، جھوٹ نہیں بولتے، طعنہ نہیں دیتے، خیانت نہیں کرتے، اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ جب میں یہاں سے اُٹھ کے چلا جاتا ہوں تو پیٹھ پیچھے میری غیبت نہیں کرتے !!

 

 ایک پھول والے کی دکان پر کیا خوبصورت جملہ لکھا تھا: انسان کو ہر قدم پر جیت چاہیے، مگر لوگ میرے پاس آ کر ہار مانگتے ہیں۔

 

جھوٹ بہت تیز دوڑتا ہے لیکن منزل پر سچ ہی پہنچتا ہے۔

 

اپنے حصے کا کام کیے بغیر دعا پر بھروسہ کرنا حماقت ہے۔۔۔ اور اپنی محنت پر بھروسہ کر کے دعا سے گریز کرنا تکبر ہے۔

 

وقت تو وقت پر بدلتا ہے لیکن انسان کسی بھی وقت بدل سکتا ہے

 

بہترین لوگ وہ ہیں جن کی گفتگو آپ کے علم میں اضافہ کرے اور جن کا عمل آپ کو آخرت کی یاد دلائے۔

 

،زندگی نے بہت کچھ سکھایا ،کتابوں نے بھی رہنمائی کی ،لیکن انسانی رویوں نے جو سبق دیا نہ تو وہ زندگی کے کسی ورق پر اور نہ ہی کتاب کے کسی صفحے پر تحریر تھا۔

 

چھوٹے ذہنوں میں ہمیشہ “خواہشیں” اور بڑے ذہنوں میں ہمیشہ “مقاصد” ہوا کرتے ہیں ،،، !! خلیل جبران : 1883-1931

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here